Type Here to Get Search Results !

شوہر سے ناراض گھر بیٹھی بہن بیٹی یا مطلقہ اور یتیم بھتیجے بھتیجیاں آپ کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں


         عمران جمیل 

_____________________



اَب شائد دو  چار  روزے اور باقی ہیں.. ہم سبھی کی عید کی شاپنگ ہوچکی ہے الحمدللہ ...شاپنگ کے لئے ہم کئی شورومس  اور دکانوں کو کھنگالے ہونگے....!

 شائد حج و عمرے کے کسی راونڈ میں خریدے گئے بہترین کپڑے بھی ہمارے پاس " سلّک" پڑے ہونگے...!

       اپنی نمازوں میں، تلاوت میں،  تراویح اور دعاوں میں ہم سبھی نے اپنی توفیق کے مطابق اللہ سے خوب مانگا ہوگا.....

دنیا و آخرت کی بھلائی ہم نے مانگی ہوگی.....

 کاروبار میں اور رزق میں برکت کی دعائیں مانگی ہوگی...

بیماریوں اور آزمائشوں  سے حفاظت مانگی ہوگی....

  بہ حیثیت مومن آخر ہم سبھی یہ ساری دعائیں کیوں نہ مانگیں ..!!

 اس مبارک مہینے میں  اللہ کے بڑے بڑے وعدے ہیں....

  لیکن کیا ہم نے اپنی نمازوں اور دعاوں کے ساتھ ساتھ نظر گھما کر اپنے ہی گھر میں موجود یتیم بچوں کی طرف، غریب بھائی کی طرف،اور بالخصوص سسرال و شوہر سے ناراض گھر میں بیٹھی ہماری بہن بیٹی کی طرف بھی دھیان سے دیکھا ہے..؟ 

  اپنی مطلقہ بہن بیٹی کی ضرورتوں کی طرف ہمارا خیال بھی گیا ہے...؟ 

ان سب  کی رمضان کی ضرورتیں اور عید کی خوشیوں کا کیا بنے گا...؟ 


      ہماری دعائیں تو جاری رہیں لیکن کیا ہم نے اپنی اُس ناراض بہن بیٹی کی بنیادی ضرورتوں کا خیال بھی کیا...؟؟ 


    اُنہیں  ہر ہفتہ پاکٹ منی دیا بھی ہے کہ جس سے وہ بھی ہمارے بیوی بچوں کی طرح اس مہینے میں عبادتوں کے ساتھ کچھ اپنی ذات پر اور اپنے بچوں پر خرچ کرسکے...؟؟

کیا کوئی ایسی دکھیاری بہن، کوئی یتیم کی ماں جب تک ہمارے سامنے ہاتھ نہ پھیلاے تب ہی ہم "کچھ" کریں گے.....؟

کیا ہمیں اُنکی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھنا چاہیئے......؟ 

آخر ہم ہمارے ایسے متعلقین کی ضرورتیں اُن کے کہنے سے پہلے ہی کیوں نہیں پوری کردیتے....؟ 

 

    ہمیں  اپنی اُس بہن کے چہرے کی طرف دیکھنا چاہیئے جہاں آج بے بسی ہے.. بیچارگی ہے.. ایک اَن دیکھا خوف ہے.... یہ وہی بہن ہے نا جو کبھی سب کی لاڈلی تھی.... جو کل بھی خوددار تھی اور آج بھی خوددار ہے.....


     چلئے اُٹھیں..!!! اور گھر بیٹھی بہن سے یا طلاق یافتہ بہن سے، اُسکے بچوں سے اور یتیم بھتیجے بھتیجیوں سے نہ صرف رمضان میں بلکہ پورا سال ایسا احسن سلوک کریں کہ اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی کی اللہ سے ضمانت لے لیں..... 

    دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کرتے ہوئے انکے لئے مارکیٹ سے وہی پسند کریں جو ہم نے اپنی بیوی اور بچوں کے لئے پسند کیا ہے....

  یقیناً بہت سے گھرانوں نے ان باتوں کی تکمیل اچھے ڈھنگ سے کی بھی ہوگی... اس سے مجھے انکار نہیں.. میرے مخاطب کس زمرے کے لوگ ہیں.. یہ ہم اور آپ جانتے ہی ہیں.. 


        بہرحال.. دوسروں کے رمضان وعید تو اچھے گذرتے ہی ہونگے.... لیکن اپنی دکھیاری بہن اور مرحوم بھائی کے بیوی بچوں کی خودداری کا خیال رکھتے ہوئے انکی بہترین کفالت کرنے پر عید کی سچی اور دلوں میں سکون بھر دینے والی خوشیوں کے اصل حقدار تو ہم ہونگے.. ان شاءاللہ....

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#codes