ایوت محل میںشراب کی جگہ ہینڈ سینٹائزر پینے سے7؍مزدوروں کی موت
ممبئی:۔(محمدیوسف رانا) ملک میں کرونا کے بڑھتے واقعات سے ہر کوئی خوف ہراس میں مبتلا ہے۔ مہاراشٹر میں وزیر اعلی نے قواعد میں سختی کا اعلان کیا میڈیکل کے علاوہ تمام دکانیں مقررہ قت کےبعد بند کرنے کاحکم دیا ہےاسی کے ساتھ شراب کی دکانیںبھی بند ہیں شراب کی عادی افراد شراب کے لئے ادھر ادھر بھٹکتے دیکھے جا رہے ہیں۔ شراب کی اپنی اسی لت کو پورا کرنے کے لئے ایوت محل کے 7؍مزدوروں نے سینٹائرز ہی لیا۔تفصیلات کےمطابق ایک حیران کن واقعہ ایوت محل کے وانی گاوںمیں اس وقت رونما ہوا جب شراب نہ ملنے کی وجہ سے کچھ مزدورجمعہ کے روز ایک ساتھ بیٹھ کر سینٹائرز کو اس لئے پی گئے کہ اس میں الکحل پائی جاتی ہے اور شراب میں بھی الکحل کا استعمال ہوتا ہے اس لئے نشہ ہوگا یہ سوچ کر ان لوگوں نے سینٹائرز پیا مگر پینے کے بعدان کےمنہ ، پیٹ بری طرح سے جلتے ہوئے محسوس ہوئے اور پے درپے کئی الٹیاں(قہ)ہوگئی تب انہیں قریبی اسپتال میں بغرض علاج داخل کرایا گیاآج علی الصبح اسپتال میں7؍ مزدوروں نے دم توڑ دیا۔
وانی پولیس اسٹیشن کے تفتیشی افسر ڈی بی بھڈیکر کے مطابق تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جمعہ کے روز متوفی مزدوروں کو کہیں سے شراب دستیاب نہ ہونے کی وجہ سےانہوں نے ہاتھ سے صاف کرنے والی ایک بوتل(ہینڈ سینٹائزر) پینے کا انتخاب کیا جس میں کافی مقدار میں الکحل بھی ہوتاہے۔ انہیں علاج کے لئے فوری طور پرمقامی اسپتال میںداخل کیا گیامگر آج صبح سویرے جہاں انھوں نے دم توڑ دیا۔ وانی پولس نے حادثاتی موت کا اندراج کر کے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے مزید تفتیش پولس کر رہی ہے۔واضح رہے اس سے قبل بھی فروری کے مہنے میںایوت محل میں واقع گھٹنجی پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) کے تحت کاپسی کوپری گاؤں میں پولیو ویکسین کے بجائے ایک سے پانچ سال کی عمر کے بارہ بچوں کو ہینڈ سینیٹائزر پلایاگیا تھاجس کے فوراً بعدانہیں قے شروع ہونے کے بعد انہیں ایوت محل کے سرکاری میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا۔


Please do not enter any spam link in the comment box.