Type Here to Get Search Results !

9 لاکھ مزدوروں کی ہجرت سے حکومت کو 82 ہزار کروڑ کا مالی نقصان

 ۹؍لاکھ تارکین وطن مزدوروں کی ہجرت سےحکومت کو۸۲؍ہزار کروڑ روپئے کا نقصان

ممبئی:۔(محمد یوسف رانا) مہاراشٹر میں کرونا کی دوسری لہرکی شدت نے تیزی سے  انفکشن کے پھیلاو کو روکنے کے لئے ریاستی حکومت نے سخت پابندیوں کا اعلان کیاہے۔مکمل لاک ڈاون کی خدشات کی  وجہ سے مختلف ریاستوں سے ممبئی میں آنے والے تارکین وطن مزدوراپنے اپنے گاوں واپس جانے کا سلسلہ شروع  ہے۔


گزشتہ دنوں اسٹیٹ بنک آف انڈیا(ایس۔ بی۔آئی) کی جانب سے ایک سروے کیا گیا جس میں پایا گیا کہصرف اپریل کے اولین۱۲؍ دنوں میںکرونا کی انتہائی نازک صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے۹؍ لاکھ تارکین وطن مزدور ممبئی کو چھوڑ کر اپنے گاوں واپس ہوئے یہ مزدور جہاں کام کرتے تھے وہ تاجر یا مالکان بھی ان لوگوں کو روکنے کے لئے تیار نظر نہیں آئے۔

ایس بی آئی کی رپورٹ کے مطابق یکم اپریل سے ۱۲؍ اپریل کے درمیان مغربی ریلوے کی۱۹۶؍ ٹرینوں پر 4؍لاکھ ۳۲؍ہزارلوگوںنے سفر کیا۔ اسی طرح۱۵۰؍ ٹرینیں اتر پردیش اور بہار گئی ہیں جس کے ذریعہ ۳؍لاکھ ۲۳؍ہزار افراداپنے گاوںواپس آئے ہیں۔ اس دوران وسطی ریلوے کے ذریعہ چلنے والی۳۳۶؍ ٹرینوں میں4؍لاکھ70؍ہزار مسافرین مہاراشٹر سے ہجرت کرکے اترپردیش ، بہار، آسام ، مغربی بنگال اور اڈیشہ  اپنے گاوں اور صوبے میں چلے گئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن سے مہاراشٹر پر سنگین اثرات تومرتب ہوئے ہیں مگرساتھ ہی صنعتی ،کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعدادکو معاشی نقصانات بھی اٹھانا پڑ رہاہے۔ موجودہ سخت پابندیوں کی وجہ سے ریاست کو۸۲۰۰۰ ؍کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اگر قواعد کو مزید بڑھایا گیا تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔

انڈیا ایس ایم ای فورم کی ڈائریکٹر جنرل سشما مورٹھنیا نے کہا کہ اسپتالوں میں بستر کی کمی ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ اس طرح کے حالات میں مزدوروں کو روکر  کرونا وائرس کی مہاماری کے دوران انفکشن پھیلنے کی صورت میں ان کے علاج معالجہ کی مشکلات سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ تاجروں کو مزدوروں کو صرف  اشد ضرورت کی صورت میں ہی روکنا چاہئے  جبکہ جن مزدوروں کا  انشورنس ہے ان کو روکا جا رہا ہے۔

عظیم پریم جی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر امیل باسول کے مطابق گزشتہ برس میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران ان کی مالی حالت خراب ہوگئی تھی۔ اب کئیمہینوں بعد اس نے اپنا کام دوبارہ شروع کیا لیکن کرونا کی دوسری لہر کی وجہ سے کام اب ایک بار پھر رک گیا ہے۔ ایسے کارکنوں کا شہر واپس آنا مشکل ہوگا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#codes