کورونا وباء سے ہر کوئی حیران و پریشان ہے۔ وباء نے گویا زندگی کا رخ ہی تبدیل کردیا۔ لاک ڈاؤن اور کرفیو سے معیشت و کاروبار پر بڑا اثر ہوا۔ کارو بار اور کام دھندہ بند ہونے سے ہزاروں لاکھوں مزدوروں نے پیدل ہجرت کی۔ کتنے راستے میں انتقال کرگئے اور کتنوں نے فاقہ کشی و بے روزگاری کے سبب خودکشی کرلی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یوں تو ہر شعبہ متاثر ہوا ہے لیکن معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلانے والا مزدور طبقہ جیسے بکھر ہی گیا ہے۔
1 مئی کو عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مزدور کو خراج اور ان کے کاموں کی سراہنا کی جاتی ہے۔ لیکن کیا مزدوروں کو اس دن سے کوئی فائدہ حاصل ہے؟ کیا انہیں حکومت کی جانب سے کوئی مدد کوئی سہولت مل رہی ہے ؟ مالیگاؤں میں آج بھی مزدور بارا بارا گھنٹہ کام کرتا ہے۔ اس وباء کے دوران مزدور حکومت اور اپنے سیٹھ سے کہیں نہ کہیں مدد کی امید لگائے بیٹھا ہے۔
عالمی یوم مزدور کا کسطرح آغاز ہوا؟
مزدوروں کا استحصال ہورہا تھا اسی لئے 15 گھنٹے کام کرنے کے خلاف امریکہ میں 1 مئی 1886 کو مزدوروں نے احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران پولس نے فائرنگ کردی جس میں کئی مزدور ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد بین الاقوامی سوشلسٹ کانفرنس میں یہ قرار داد منظور ہوئی کہ ایک مئی کو عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جائے گا۔ مزدوروں کو خراج پیش کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی طئے ہوا کہ مزدور صرف 8 گھنٹہ ہی کام کریں گے۔ "ہندوستان میں بھی یوم مزدور کا آغاز سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے ہوا۔ 1 مئی 1923 کو پہلی مرتبہ لیبر فارمرس پارٹی آف انڈیا نے مدراس میں عالمی یوم مزدور منایا۔ پہلی مرتبہ اس موقع پر لال پرچم کا استعمال یوم مزدور کی علامت کے طور پر کیا گیا"
موجودہ حالات پر نظر ڈالی جائے تو کیا مزدوروں کو واقعی میں ان کا حق مل رہا ہے؟ کیا عالمی یوم مزدور کا مقصد پورا ہوتا نظر آرہا ہے؟ کیا آج کے مزدور کو حکومتی سہولیات مل رہی ہیں؟

Please do not enter any spam link in the comment box.