Type Here to Get Search Results !

اسرائیل کی طرف سے ترکی کا بائیکاٹ۔ آخر کیوں؟

 #اسرائیل_کی_طرف_سے_ترکی_کا_بائیکاٹ

 خلافتِ عثمانیہ کے جانشین " اردوغان " اور اہلِ ترکی یہودیوں کو کھٹک رہے ہيں: 


 ۱۱ مئی دو ہزار اکیس کو، معروف اسرائیلی شخص یائر نیتن یاہو نے سرخ خونی تصویر میں ترکی کا ہلالی پرچم لگاکر، تُرکوں کےخلاف بائیکاٹ کی اپیل شائع کی ہے۔

 عین جس وقت سرزمین قدس پر، مجاہدین اور یہودی افواج میں جنگ چھڑی ہوئی ہے اسی وقت، یہ ٹوئیٹ کیا کوئی خاص معنی رکھتاہے؟ 

 


فی الحال کئی روز سے  مجاہدینِ فلسطین اور ناجائز اسرائیل کے درمیان معرکہء ایمان و کفر برپا ہے، فلسطینی کئی دہائیوں سے تن تنہا اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کر کے اسرائیل اور اس کے حامی عالمِ کفر سے لڑ کر مسلمانوں کے قبلۂ اول کا تحفظ کررہےہیں 

 دوسری طرف غدار اور خائن عربی دنیا ہے، اس نے بھی مسجدِ اقصیٰ کا سودا کرلیا اور امریکی غلامی اختیار کرلی ہے، بلکہ حقیقت یہ ہیکہ،سعودی عرب کے آلِ سعود، متحدہ عرب۔امارات کے آلِ نہیان اور مصری حکومتیں اسرائیلی کاز کی طاقتیں ہیں ۔

 ان سب کے درمیان بچتا ہے ترکی، اب جب سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے دیکھیے کہ کون کیا کررہاہے؟ 

 سعودیہ اپنے درباری امام شیخ سفید کے ذریعے ہمیشہ کی طرح ایک دعاء کرواکے اس کی ویڈیو بنوا کر عوام میں بھیج دیا ہے تاکہ وہ بیوقوف بن جائیں جبکہ سعودیہ پر یہ ذمه داری تھی کہ وہ اپنی فوجیوں فلسطینیوں کی حمایت میں روانہ کرتا 

 ایسے ہی کئی عربی ممالک کا مذمتی بیان آیا ہے لیکن اتنا ڈھکا چھپا کہ، سمجھنا مشکل ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت کرنا چاہتے ہیں یا تعزیتِ محض، اسرائیلی دہشتگردی پر تو کوئی صراحت جاری کرنے کی خیر ہمت ہی نہیں ہوئی ۔ 

اب آتےہیں ترکی کے صدر، عظیم  عثمانیوں کی یادگار، صدر رجب طیب اردوغان کی طرف، انہوں نے پہلا بیانیہ جاری کیا بالکل واضح جس میں اسرائیل کی ناجائز حیثیت اور غیرقانونی وجود کو بیان کیا، اس کے اقدامات کو دہشتگردی سے تعبیر کیا، ایک بیان جاری کرکے بس نہیں کیا، بلکہ، مسلسل وہ اپڈیٹ کررہےہیں کہ، اسرائیل کی حد سے بڑھ چکی دہشتگردی کو روکنے کے لیے انہوں نے فلاں فلاں اسلامی ممالک کے سربراہان سے مذاکرات شروع کردیے ہیں۔ سب سے پہلے اردوغان نے، فلسطینی صدر محمود عباس اور تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل ھانیہ سے مفصل گفتگو کی، بعدازاں، ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف، الجیریا کے صدر عبدالمجید تبون، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ملائشیا کے بادشاہ سلطان عبداللہ رعایت الدین ال مصطفیٰ بالله شاہ، کویت کے امیر شیخ نواف ال احمد، ان کے علاوہ اردوغان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی مسئلہ قدس اور اسرائیلی ظلم و ستم پر خصوصی بات چیت کرلی ہے، اب جیسے جیسے اردوغان کی ان عملی سرگرمیوں کی خبریں باہر آتی رہی ہیں یہودیوں کے حلق سوکھنے لگتے اور وہ بائیکاٹ ترکی کا ماتم کرنے لگتے، کیونکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ اتنی ساری سرگرمیاں بےمطلب اور بےمقصد تو ہرگزنہیں ہوں گی، درون خانہ مزید کچھ مؤثر تیاریاں موجود ہوں گی، اور صدرِ ترکی نے ان ممالک کے سربراہان سے ناصرف گفتگو کرلی ہے، بلکہ اب تو وہ پوری دنیا کو کھلی دعوت دے رہےہیں کہ وہ سب ان کےساتھ آئیں اور اسرائیلی خونریزی کو روکنے کے لیے مؤثر عملی اقدام میں شرکت کریں ظاہر اس عملی اقدام کا آخری پڑاؤ اب عسکری کارروائی کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا، اس کےعلاوہ ترکی کے وزیر خارجہ سمیت پوری خارجہ منسٹری اور اس کے افسران مسلسل فلسطینیوں کی حمایت میں ایکٹو بھی ہیں اور کوئی نہ کوئی اپڈیٹ جاری کررہےہیں

 اب یہ بھی جان لیجیے کہ ترکی کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے والا کوئی عام یہودی یا اسرائیلی افسر نہیں ہے، بلکہ یہ اپیل جاری کرنے والا اسرائیلی وزیراعظم کا بیٹا ہے، جسے آپ نظرانداز نہیں کرسکتے

 اس طرح بالکل دو۔دو چار کی طرح واضح ہے کہ، فلسطینیوں کےحق میں مؤثر اقدامات کون کررہاہے؟ جس کا درد یہودیوں کو بھی ہورہاہے، ایکطرف یوروپی مغربی صہیونی دنیا حقوق انسانیت کی علمبردار اسلام دشمن اقوام متحدہ کا دجالی ٹولہ، جو فلسطینیوں پر اتنےدنوں سے جاری اسرائیلی حملوں پر بھیگی بلی بنا ہوا تھا، یہ سب اب حماس کے دفاعي حملوں کو دہشتگردی سے تعبیر کرکے ظالم و مکار یہودیوں کےساتھ کھڑے ہوگئےہیں، کفر ایکطرف ہوچکاہے، ایسےمیں اردوغان کی ایکٹیویٹی بسا غنیمت ہے۔

اگر کسی کے اندر فلسطینی کاز کے لیے ذرا سا بھی ایمانی حمیت اور ہمدردی ہے تو اس ظاہری منظرنامے سے کم از کم عالم اسلام کے زندہ اور دھڑکتے دل کو بھی اور مردہ پڑی حکومتی لاشوں کو بھی پہچان لے گا، باقی جنہیں نہیں ماننا ہے، اور عالم اسلام کا تجزیہ متعصبانہ ہی کرناہے، سرکاری اور مسلکی وابستگی کی بنیاد پر ہی حمایت و مخالفت کرنا ہے وہ کل بھی احیاء خلافت اسلامیہ کو تسلیم نہیں کرینگے _


 عظیم عثمانیوں کو لاکھوں سلام، اسلامسٹ اردوغان کو محبتوں کی سوغات اور برکت کی دعائیں، ترکوں کے سر چڑھتے افق کو عقیدت کے نذرانے… الله آپ سب کا حامی و ناصر ہو_

 الله یار و یاردم جلوس اولسن

✍: سمیع اللہ خان

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#codes