مالیگاوں (نامہ نگار) ہر سال محرم الحرام کے موقع پر شہر میں بڑی تعداد میں بچوں کے کھلونوں کی دکانیں دیکھی جاتی ہے ۔ ان دکانوں میں زیادہ تر پلاسٹک کی نقلی بندوقیں رکھی جاتی ہیں ، جسے شہر کے بچے دھوم سے خریدتے ہیں اور اپنے گلی محلوں میں کھیلتے نظر آتے ہیں ، اگر آپ ان بندوقوں کو بغور دیکھیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس بندوق سے نکلنے والی گولی کتنی تیز رفتاری کے ساتھ نکلتی ہے ۔ اگر اسی رفتار سے یہ گولی کسی انسانی جسم پر لگے تو وہاں زخم آجاتا ہے ۔ معلوم ہوکہ گزشتہ سال بھی اور امسال بھی شہر میں اس پلاسٹک کی بندوق کے دو واقعات رونما ہوئے تھے ،جن میں بتایا جارہا ہیکہ اس بندوق سے نکلا ہوا چھرا بچوں کی آنکھ میں جاکر لگا تھا ، جسکی وجہ سے اس بچے کی آنکھ شدید زخمی ہونے کے ساتھ وہ بچہ اپنی ایک آنکھ سے محروم بھی ہوگیا تھا ۔ یہی صورتحال ان دنوں مالیگاؤں شہر کے ہر گلی محلوں میں دکھائی دے رہی ہے ، ان دنوں ہمارے بچے بندوقیں لیکر بے زبان جانوروں کو گولی مار رہے ہیں ، جن میں چڑیا ، کتا ، بلی ، اور انسان کو بڑا خطرہ لاحق ہورہا ہے ۔ غور طلب ہیکہ ان نقلی بندوقوں سے ہمارے بچوں کی ذہنیت پر بھی خطرناک اثر پڑ سکتا ہے ۔ اسلئے شہر میں ایسے کھلونوں پر پابندی عائد ہونا ضروری ہے ۔ اسطرح کی بات شہر کے چنندہ افراد نے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کی ۔ والدین کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کو اسطرح کے کھلونے نہ دلائیں ، جسکی وجہ سے ہمارے بچوں کی ذہنیت خراب ہو اور وہ بے زبان چرند و پرند کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اپنے محلے کے بچوں کو زخمی کریں ۔


Please do not enter any spam link in the comment box.