شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد ہونے پر امت مسلمہ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ،انٹر نیشنل ہیومن رائٹس کے صدر حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) کا ہمت افزاء پیغام امت مسلمہ کے نام ۔۔۔۔۔۔!!!
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کے صدر حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) نے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کیے جانے پر گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صرف دو ناموں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات ان ماؤں کے آنچل، ان باپوں کی خاموش آہوں، ان بہنوں کی سسکیوں اور ان بیویوں کے ٹوٹتے حوصلوں تک پھیل جاتے ہیں جو برسوں سے انصاف کی دہلیز پر امید کی شمع جلائے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتوں کے دروازوں پر تاریخیں بڑھتی جائیں اور انصاف کی آواز قیدِ تنہائی میں دم توڑتی محسوس ہو، تو یہ کرب صرف قیدی کا نہیں رہتا، یہ پورے خاندان کے دلوں پر نقش ہو جاتا ہے۔ حضرت صابر نورانی نے کہا کہ شرجیل امام اور عمر خالد کے اہلِ خانہ کی راتیں جاگتے جاگتے کٹتی ہیں، جہاں ہر دستک پر دل دھڑک اٹھتا ہے اور ہر خبر پر سانس رک سا جاتا ہے۔ ماں اپنے بیٹے کی تصویر سے باتیں کرتی ہے، باپ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے سجدے میں گر جاتا ہے، بہنیں عید کے دن خالی چوڑیاں دیکھ کر سسک اٹھتی ہیں، اور بیویاں بچوں کو سینے سے لگا کر یہ سوال دہراتی ہیں کہ آخر انصاف کا سورج کب طلوع ہوگا؟ یہ وہ اذیت ہے جسے لفظوں میں قید کرنا آسان نہیں، مگر یہی اذیت آج ہماری اجتماعی خاموشی پر سوال بن کر کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت کی مسلسل ردّی سے اہلِ خانہ کے دلوں میں جو زخم لگتے ہیں وہ وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر تاریخ، ہر سماعت، ہر فیصلہ ایک نئی آزمائش بن کر سامنے آتا ہے۔ بچوں کی معصوم آنکھوں میں باپ کی کمی، گھروں میں چھائی خاموشی، دسترخوان پر ادھوری دعائیں اور مسجدوں میں لرزتے ہاتھ—یہ سب اس درد کی گواہی ہیں جس سے یہ خاندان گزر رہے ہیں۔ حضرت صابر نورانی نے کہا کہ یہ محض قانونی معاملہ نہیں، یہ انسانیت، ضمیر اور انصاف کے پیمانے کا امتحان ہے۔انہوں نے امتِ مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے، اس لیے اللہ کی ذات سے ناامید ہونا ہمارے شایانِ شان نہیں۔ آزمائشیں آئیں تو صبر کے ساتھ دعا کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اندھیری رات کے بعد ہی سحر کا اجالا نمودار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کی آہ سیدھی عرش تک پہنچتی ہے، اور جب آنسو سچے ہوں تو ربِ کریم دیر ضرور کرتا ہے، مگر اندھیر نہیں کرتا۔آپ نے اس موقع پر اہلِ خانہ کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا صبر، ان کی استقامت اور ان کی امید ہم سب کے لیے مثال ہے۔ انہوں نے اہلِ انصاف سے اپیل کی کہ وہ اس درد کو محسوس کریں، ان آنکھوں کے آنسو پڑھیں اور ان دلوں کی دھڑکن سنیں جو برسوں سے انصاف کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا مقصد سزا دینا نہیں، بلکہ انصاف فراہم کرنا ہے، اور انصاف وہی ہے جو بروقت اور غیر جانبدار ہو۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شرجیل امام اور عمر خالد سمیت ہر بے قصور قیدی کی رہائی کے اسباب پیدا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کے زخموں پر مرہم رکھے، اور ہمارے معاشرے کو ایسا ضمیر عطا کرے جو مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل ہماری خاموشی ہمارے بچوں کے مستقبل پر سوال بن جائے گی۔ یہ وقت آنسو بہانے کا بھی ہے اور آواز بلند کرنے کا بھی کیونکہ جب آنسو اور دعا مل کر اٹھتے ہیں تو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔


Please do not enter any spam link in the comment box.