Type Here to Get Search Results !

منظّم شکار

 


سفر انسان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے ۔ انفرادی و اجتماعی سفر کرنے والوں نے تاریخی کارنامے انجام دئیے ہیں۔مشہور ڈائیلاگ ہے " کہ یہاں سے پچاس پچاس کوس دور گاؤں میں جب بچہ روتا ہے تو ماں کہتی ہے بیٹا سو جا نہیں تو گبّر آجائیگا"- یعنی دوریاں ان کے بھی پیر کا مَیل تھیں ۔


گلی محلّے میں چھوٹی موٹی چوری اور دھوکہ دہی میں ملوث لڑکے کے والد کے پاس شاکی کو ایک ہی جواب ملتا-


" کچھ بھی ہوجائے میں اسے گھر سے بھاگنے نہیں دونگا ۔ورنہ یہ اور زیادہ منظّم  ہوکر ایسی جگہ سے شکار کرےگا کہ تم سمجھ بھی نہ سکو گے" ۔


سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو غیر مرئی  میں تبدیل کیا تو گبّر بھی ماڈرن ہوگئے ۔ٹائی کوٹ پہنا اور گھر سے چوری کرکے بھاگے ہوئے ملک کے مُکھیا کو ساتھ لے کر اس پر اپنی زین اور لگام کَس دی ۔ ڈاکووں نے منظم کمپنیاں کھولیں، مکھیا نے گوشت کے نام پر لنچنگ کروائی، اور گوشت کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایکسپورٹ کرکے انڈیا کو دوسرے مقام پر کھڑا کردیا ۔اور ہم پریشان رہے کہ ہمارے ہاتھ کا لقمہ کون لے گیا؟؟؟؟ 


نیو فارم بل  کے جال کو لگاتے وقت مُکھیا نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر ( ڈاکووں)  کے نفوذ سے زرعی شعبے کو استحکام ملے گا ۔ہمارے گودام ماڈرن ہونگے اور کسانوں کی انکم میں اضافہ ہوگا ۔ لیکن اس جال کے پیچھے چھپے مصنوعی قلت  اور گلوبل مارکیٹ سے زرِ مبادلہ کمانے والے زہریلے دانت سے غریب کے گھر کا ڈبّہ بج سکتا ہے ۔


چنانچہ وہ دن دور نہیں جب بچے خود ٹائی کوٹ والے کو دیکھ کر ڈرنے لگیں یا انقلابِ فرانس کی طرح مزدور اپنا توازن کھو بیٹھیں اور ہر منظم لٹیرے  کی لنچنگ کی جانے لگے ۔ 


اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو


گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سے

کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو


جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو


انعام الرحمن ابواللیث

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#codes