ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے پر شیوسینا کی مرکز پر تنقید
ممبئی:۔(محمد یوسف رانا) شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا نے ملک میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں روز افزوں بے تحاشہ اضافے کے خلاف سخت تیور دکھاتے ہوئے لکھا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والا بجٹ موجودہ ذمہ داروں کی یہ جمہوری ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے اس نے زرعی قانون سازی کے نام پر کاشتکاروں کے ساتھ اس طرح کی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ مودی جی کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔سامنا نے آگے لکھا ہے کہ فیول گیس کی شرح میں اضافے کے بارے میں اب عام لوگوں کا حال برا ہو رہا ہے مگر مرکزی سرکار ان سے باتوں سے بے پرواہ ہو کر صرف بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں۔مودی سرکار کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ اور ہی ہے اس وقت معاشی راجدھانی ممبئی شیوسینا نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عروج پر ہے۔پیٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کا براحال ہےیونین بجٹ میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے ساتھ زرعی استعمال کی چیزوںکی شرح میں اضافہ نہیںہوگا مرکزی حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا تھالیکن یہ وعدہ بھی وفا نہیں ہوسکا۔اس معاملے میں نہ صرف پٹرول اور ڈیزل بلکہ رسوئی گیس کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔مرکزی حکومت اپنے وعدے سے منہ پھیر لیتی ہے۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ۳۵؍ سے ۳۷؍ پیسے تک بڑھ گئی ہے۔ چار روز قبل ایک سرکاری وزیر نے کہا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد زرعی ٹیکسکے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی شرح میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ پھر یہ قیمتیں چار دن میں کیسے بڑھی؟ ہمیشہ کی طرح مرکز کی مودی سرکار حکومت بین الاقوامی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں صدائے احتجاج بلند کرے گی یا پھر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر خاموش بیٹھے گی۔پٹرول پرڈھائی روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر۴؍ روپے فی لیٹر وصول کیا جائے گا۔ سامنا نے سوال کرتے ہوئے مرکز سے پوچھا ہے کہ گیس ایندھن کی شرح میں اضافہ کتنا کم ہے؟ کیوں اس کا تعلق زرعی ٹیکس سے نہیں ہے؟ایل پی جی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ایل پی جی کی شرح میں کتنا اور کیوں اضافہ ہواہے؟ حکومت کے پاس کا اس کیا جواب ہے؟ لیکن اس کے بارے میں تشویش اس بات پر ہے کہ ایل پی جی سلنڈر مہنگے ہیں اور کمرشل گیس سلنڈر سستے ہیں ایل پی جی سلنڈر براہ راست ۲۵؍ روپے مہنگے ہوئے جبکہ کمرشل گیس سلنڈر۵؍ روپے سستے ہوئے ہیں۔ قیمتوں کا تعین کرنے کی یہ کیسی پالیسی ہے؟ یعنی عام جنتا جو ایل پی جی استعمال کرتے ہیں اسکی قیمت میں اضافہ اور پیشہ ور افراد کووہ سیلنڈر کم داموں میں؟ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سامنا نے مزید لکھا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے عام آدمی کی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے۔ سینکڑوں لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیںجو برسرروزگار ہیں ان کی نوکریاں بھی خطرے میں ہیں۔ ایسے وقت میں جب آپ عوام کے جیبوں میں کچھ ڈال نہیں سکتے تو کم سے کم جنتا جو روٹی روزی حاصل کرنے کی تگ ودو میں کچھ پس انداز کر رہی ہے اسے کیوں چھینتے ہو؟مرکزی مالی بجٹ میںصرف اور صرف سنہرے خوابوں کی بارش کرنے والی حکومت متوسط طبقے اور ملازمت کےمتلاشی غریب عوام کو انکم ٹیکس میں چھوٹ نہیں دے سکی۔


Please do not enter any spam link in the comment box.