Type Here to Get Search Results !

وزیراعظم نریندرمودی ہردلعزیز اور پیارے ہیں : سپریم کورٹ جج

سپریم کورٹ کے جج کا سیاسی اور غیر آئینی بیان 
 

 سپریم۔کورٹ کے جسٹس ایم۔آر شاہ نے کہا ہیکہ: " بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندرمودی سب سے چہیتے، پیارے طاقتور/زندہ دل اور آفاقی نظریاتی لیڈر ہیں "

 آج گجرات ہائیکورٹ میں ڈاک۔ٹکٹ جاری کرنے کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروگرام میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم۔آر شاہ نے یہ بیان دیا ہے،  جوکہ سپریم کورٹ کے معیار اور آئینی اصولوں سے متصادم سیاسی اور چاپلوسانہ ہے_

 ہمارے قارئین کو یہ بھی معلوم ہوجانا چاہیے کہ، یہی جسٹس ایم۔آر شاہ جب. بہار کے پٹنہ ہائیکورٹ میں تھے تب انہوں نے۲۰۱۸ میں نریندرمودی کو " ہیرو اور رول ماڈل " قرار دیا تھا اور بعدازاں ان کی بھرتی سپریم کورٹ میں ہوگئی _

 جسٹس شاہ کا یہ بیان آئین ہند کے آرٹیکل ۵۰ کے خلاف صریح ورزی ہے_

 اب ایسی آخری درجے کی حرکتوں کی تعبیر کے لیے " بے شرمی اور خصیہ برداری " سے نیچے کوئی الفاظ ہیں کیا؟ 

 دنیا کے کونسے ملک میں، انصاف اور عدالتوں کا سسٹم اتنی نچلی سطح پر ایڑیاں رگڑتا ہے؟ 

 کہیں فسطائیت اور ظالمانہ آمریت نے قدم جمائے تو وہاں بھی شاید اتنی بے شرمی سے عدالتوں کو سیاست زدہ نہیں کیا گیا 

 کونسی دنیا میں سپریم کورٹ تو درکنار نچلی عدالتوں کے ججز سیاسی لیڈروں کی کھلے عام چاپلوسی کرتےہیں؟ آئینی رو سے تو یہ خود بے اصولی اور مجرمانہ حرکت ہے لیکن کون انہیں سزا دے گا؟

 آر۔ایس۔ایس اور بھاجپا کی نسل پرستانہ گجراتی قیادت نے نہایت چالاکی سے سپریم کورٹ کے وقار کو تقدس میں بدل کر اسے اپنے سیاسی اہداف پر ڈال دیا ہے 

 سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کے ججز آج گرچہ اپنے برہمنوں کو خوش کرنے کے لیے سجدہ ریز ہیں لیکن انہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ سپریم کورٹ ہندوستانی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چلتاہے عوامی خزانے سے چلنے والے آئینی ادارے کو نسل پرست گجراتی ذہنیت،  امبانی اور اڈانی کے مفاد میں استعمال کررہی ہے اور وہی اسے مقدس گائے بنائے ہوئے ہے  تاکہ سپریم کورٹ آنے والے منو۔وادی سامراج کے لیے ایک ڈھال بن جائے، دوسری طرف، انہی عدالتوں سے جمہوریت کے ليے توازن کی امیدیں بھی کی جاتی ہیں _

جنہیں ابھی بھی عدلیہ کی مقدس گائے کا تقدس ستاتا ہو انہیں پتا ہونا چاہیے کہ جسٹس ایم آر شاہ اپنے ساتھی جسٹس گوگوئی کے نقشِ قدم پر ہیں، اور گوگوئی وسیع پارلیمانی ہال میں راجیہ سبھا کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہندوستانی عدلیہ کے موجودہ ججز کو بھاجپائی ہونے کے فوائد کالائیو نظارہ کراتے رہتےہیں… وہاں تک پہنچنے کا ایک ہی اصول: سب کچھ کیجیے "جسٹس" کے سِوا _


✍: سمیــع اللّٰہ خان
6 فروری ۲۰۲۱ 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#codes