دوسری لہر کی’’ من کی بات‘‘ کو بروقت سمجھا جاتا تو ملک کرونا کی سونامی میں نہیں ڈوبتا:شیوسینا
ممبئی:۔(محمد یوسف رانا) وزیر اعظم نریندر مودی نے ’’من کی بات‘‘ میں ملک کی عوام کو یقین دلایا تھا کہ کرونا کی دوسری لہر کے خلاف مرکزی اور ریاستی حکومتیں لڑنے کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے اس پر طنز کرتے ہوئے شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا میں لکھا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کو اگر وقت پر سمجھ کروزیر اعظم نریندر مودی سنجیدگی سے لیے ہوتے تو آج کرونا کی سونامی میں ملک ہچکولے نہیں لے رہا ہوتا۔یہ لڑائی تمام لوگ مل کر لڑ رہے ہیں یہ سچ ہے لیکن اس کے آغاز سے پہلے مرکز حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ چیزوں کی تیاری پہلے ہی کر لیا ہوتانیز اگر ماہرین کی جانب سے دی جانے والی وارننگ کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو آج کرونا وائرس کی وجہ سے ملک کی عوام کو جو نازک صورتحال بنی ہوئی ہے وہ مختلف ہوتی۔شیوسینا نے مزید لکھا ہے کہ اب کورونا کی دوسری لہر میں ہمارے ملک کا صحت کا نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے،حال یہ ہے کہ اسپتالوں میں بیڈ کی کمی کے ساتھ ساتھ آکسیجن کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے متاثرہ مریض اسپتالوں کے باہر ہی دم توڑ رہے ہیں۔یہ سارے خوفناک مناظر ہیں جو ملک کی عوام صبح و شام اخبارات اور میڈیا کے ذریعہ دیکھ رہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کی جانب سےایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ مستقبل میں کورونا سونامی کے پھیلاؤ کی شدت کو روکنے میں مددگار ثابت ہو۔مگر ان سب کے باوجود کرونا کی دوسری لہر کی تباہی کی وجہ سے جو لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے وہ واپس آسکیں گے اور نہ ہی ان کے تباہ حال کنبے بحال ہوسکیں گے۔
شیوسینامزید لکھا ہے کہ واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ میٹرکس اور تشخیص کی امریکہ میں مقیم یونیورسٹی کی لرزا دینے والی رپورٹسامنے آئی ہے جس کے مطابق مئی کے مہینے میں ہندوستان میں کرونا مریضوں کی شرح اموات روزانہ۵۰۰۰؍سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔۱۲؍ اپریل سے یکم اگست کے درمیان ملک میں کوروناکی دوسری لہر سے متاثر ہوکر مرنے والوں کی تعداد۳؍ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اب مرکزی حکومت کو واشنگٹن کے اس ادارے کے ذریعہ دی گئی انتباہ انتباہ کو سنجیدگی سےلیتے ہوئے حفاظتی اقدامات کی تیاریاں شروع کردینا چاہئے۔

Please do not enter any spam link in the comment box.