گجرات کے پارٹی دفتر میں دوائیاں مفت تقسیم کی جار ہی ہیں جبکہ ہمیں ضرورت پربھی نہیں مل رہی ہےمغربی بنگال میں مودی کی ریلی سے لوگ ریاستوں میں کرونا لے کر آئیں گے:شیوسینا
ممبئی:۔(محمد یوسف رانا)مہاراشٹرا کورونا کی وجہ سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر شیوسینا کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے اخبار سامنا کے ذریعہ بی جے پی اور مرکزی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئےکہا کہ گجرات میں پارٹی کے دفتر کے اندر دواؤں کی مفت تقسیم کی جارہی ہے۔ جبکہ ہمیں ضرورت کے بعد بھی فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔مرکزی حکومت ریاستوں سے پیسہ لیتی ہے لیکن دوائیں مہیا نہیں کرتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سینٹرل نے ہمارا پیسہ ہمیں واپس نہیں کیااور نہ ہمیں ریمیڈسویر مہیا کیا۔ راوت نے پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت مغربی بنگال کے انتخابات میں سارا پیسہ خرچ کرے گی؟سامنا نے مودی پرسخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کرونا کو ایک تباہ کن وائرس بتا رہے ہیں مگر اس سے پیدا ہونے والے بحران سے کس طرح نمٹا جائے؟ مرکزی حکومت کا روڈ میپ کیا ہے؟ یہ نہیں بتایا۔ ایسی صورتحال میں ان کی تقریر کا نچوڑ قابل فہم ہے کہ کرونا بحران میں ، عوام کو’’خوداپنااپنا حل‘‘ نکالناہوگا۔
مزیدلکھاکہ مہاراشٹر جیسی ریاست میں کورونا کی زنجیر کو توڑنے کے لئے سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت ہےاس کے باوجود وزیر اعظم مودی نےلاک ڈاؤن سے بچنےکے لئےاس طرح کا مشورہ دیا ہے۔ ریاست میں کورونا انفیکشن میںبے حد اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں صرف مہاراشٹر میں ہی ۶۴؍ ہزار مریض پائے گئے۔ اموات کی شرح کودیکھتے ہوئے کم از کم۱۵؍ دنوں کا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جانا چاہئے جس کا مطالبہ ریاست کے بہت سے وزیروں نے کیا ہے۔ لیکن ہمارے وزیر اعظم کس بنیاد پر ایسےلاک ڈاؤن سے بچنےکا مشورہ دے رہے ہیں؟نہیں پتہ
حالانکہ مہاراشٹرمیں ۱۲؍کے علاوہ تمام کلاسوں کے امتحانات کو منسوخ کرنا پڑا۔ مرکزی حکومت نے گذشتہ ہفتے سی بی ایس ای کا امتحان بھی منسوخ کردیا تھا۔ گجرات ، مدھیہ پردیش ، دہلی ، اترپردیش ، کرناٹک کی صورتحال قابو سے باہر ہوگئی ہے۔ کرونا انفیکشن کے خاتمے کے لئے گجرات حکومت نے دو ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ کردیا جس کی سفارش انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ریاستی برانچ نے کی۔ مہاراشٹرا جیسی ریاست میں سخت پابندیوں کے باوجود کورونا کنٹرول میں نہیں آرہا ہے۔ عوام ضروری اشیائ کی حصولیابی کے نام پر سڑکوں پر گھومتے ہیں لہذا لاک ڈاؤن ہی ایک آخری راستہ بچا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم عوام کو اس بات پر راحت دیں گے کہ اتنی سنگین صورتحال کا سامنا کس طرح کرنا ہے۔
سامنا نے مزیدلکھاہے کہ یہ سچ ہے کہ وزیر اعظم مودی نےپرتگال کا دورہ کورونا کے بڑھتے ہوئے انفکشن کی وجہ سے منسوخ کردیا تھا۔ لیکن اگر انہوں نے مغربی بنگال کی پرہجوم عوامی انتخابی میٹنگیں بھی رد کر دیتے تو کورونا کے انفیکشن کو روکا جاسکتا تھا۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے لئے ملک بھر سے لاکھوں افراد کو اکٹھا کیا۔ جب یہ لوگ اپنی اپنی ریاستوں کو لوٹیں گے تو ساتھ میں کورونا انفیکشن لے کر جائیںگے۔ ہریدوار کے کنبھ میلہ اور پنڈی بنگال کے سیاسی میلے سے ملک کو صرف اور کوروناہی ملا۔
سامنا نے مزیدلکھا ہے کہ حکمرانوں کو پہلے خود پر پابندی لگانی ہوگی۔ دوسرے ممالک کے وزیر اعظم اور صدر خود اپنے اوپرسخت پابندیاں عائد کرتے ہیںاس کے بعدعوام کو اس پر عمل پیرا ہونے کو کہتے ہیں۔ ناروے کے وزیر اعظم نے کی سالگرہ کے موقع پر انہوں نے۱۳؍افرا د کو بلایا جب کہ وہاں صرف ۱۰؍افراد کی ہی اجازت تھی اس پر وہاں کی پولس نے اپنے ہی وزیر اعظم کو سخت سزا دی۔
ہمارے ملک میں دیکھاجاتاہے کہ حکمراں اپنےہی بنائے ہوئے قانون پر عمل نہیں کرتے کیااس کی مثال مغربی بنگال میں دیکھنے کو نہیں ملی؟وزیر اعظم نے قبول کیا کہ کورونا کی وجہ سے ملکی صورتحال خراب ہوئی ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا کرنا ہے۔


Please do not enter any spam link in the comment box.