برے حالات میں لوگ اپنے سیاسی رہنماؤں کو پکار رہے ہیں اور یہ رہنما صرف اخبارات میں اشتہار بنے چپکے دکھائی دے رہے ہیں
کورونا نے ایک جانب جہاں ضرورتوں کی ساری دکانیں بند کروا دی وہیں سیاسی لیڈروں کی کریڈٹ لے جانے والی دوکان چوبیس گھنٹے کھلی ہوئی ہیں
وسیم رضا خان (چیف ایڈیٹر : ہیڈلائن پوسٹ) کورونا نے ان دنوں مہاماری کے ساتھ ساتھ ایک ایسی شکل بھی اختیار کر لی ہے جسے ہم سیاسی چیل اڑی، کوا اڑا کا کھیل کہہ سکتے ہیں. کہیں کوئی لیڈر اپنی چیل اڑا رہا ہے تو کہیں کوئی سیاسی دھرندر کوا نہ اڑاتے ہوئے کتے بلی بھی اڑانے لگا ہے ( یہ مثال وہ قاری ضرور سمجھے گا جس نے بچپن میں یہ کھیل کھیلا ہے) لیکن ہم بھول رہے ہیں کہ جو لوگ کتے،بلی اور گائے بھینس اڑا دیتے ہیں انہیں کھیل سے آؤٹ بھی کر دیا جاتا ہے. لیکن یہ سیاسی دھرندر اتنے ضدی ہیں کہ آؤٹ ہونے والا گیم کھیلتے ہی نہیں، جبکہ یہ بات ہمیں سمجھنی چاہیئے کہ جو جانتا ہی نہیں کہ کتے بلی اڑتے نہیں ہیں انہیں ہم کھیل میں شامل ہی کیوں کرتے ہیں؟ بلکہ ہم تو اتنے مجبور ہیں کہ اس کی بات بھی مان لیتے ہیں اور بلی کے اڑنے پر ہم بھی انگلی اٹھا کر شہادت دے ہی دیتے ہیں.
مثال تھوڑی سی اٹ پٹی ضرور ہے لیکن با شعوروں کو سوچنے کیلئے مجبور کرتی ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہی نہ جائے جو اتنا سا شعورنہیں رکھتے کہ کسے اڑانا ہے اور کسے نہیں.کورونا مہاماری سے لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں. ایک طرف مریضوں کو نئ سانسیں دینے کیلئے آکسیجن کی ہاہاکار ہے تو دوسری جانب ریمڈیسیور نام کا بھرم، جس سے لوگوں نے زندگی کی امید لگا رکھی ہے. ایک جانب دیکھا یہ جا رہا کہ ہر سیاسی جماعت یا گروپ میں ایک سے بڑھ کر ایک خود سمجھدار ثابت کرنے والے لوگ اپنے زنگیلے خیالات سے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کر کے انہیں گمراہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی آقا اپنی دوکانیں کھولے بیٹھے ہیں. ریاست کے ہر بڑے شہر کا یہی حال ہے.
برے حالات میں لوگ اپنے سیاسی رہنماؤں کو پکار رہے ہیں اور یہ رہنما صرف اخبارات میں اشتہار بنے چپکے دکھائی دے رہے ہیں. ماما کے پیسوں کی خریدی ہوئی مٹھائی بھانجے صاحب بانٹ رہے ہیں اور فوٹو کھنچوا کر کالر ٹائٹ کر کے گھوم بھی رہے ہیں. راقم نے ایسے کئی ٹائٹ کالر والوں کو خود بھی کورونا کا شکار ہوتے دیکھا ہے جن کو پرائیویٹ اسپتال تو کیا سرکاری پلنگ بھی نہیں مل سکا. جو لوگ نیک نیتی سے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں، ان کا کام خود بتاتا ہے کہ یہ لوگ مخلص ہیں. ایسے سیکڑوں لوگ آپ کو ہر شہر میں ملیں گے جو بے چارے خود تکلیف میں ہیں لیکن اوروں کی تکلیف دور کرنے میں انہیں مزہ آ رہا ہے. رہے ہمارے بڑے بڑے سیاسی دھرندر، تو ان کی بات کرنا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، کیونکہ ان کا کردار پورے کورونا کال میں آقاؤں جیسا رہا ہے. اسپتالوں میں ان کے وزٹ کرنے سے بیماری بھاگ جاتی ہے. تکلیف میں مبتلا مریض اور اس کے خاندان والوں کے چہرے کھل جاتے ہیں کہ چلو اب صاحب آ گئے، اب ہم بچ جائیں گے. صاحب آتے ہیں، وزٹ کر کے فوٹو کھنچواتے ہیں، دو چار میڈیا والے ان کے منہ میں اپنا مائک گھسا کر تھوڑی الٹی کروا لیتے ہیں اور اخبار میں ان کے چہرے چمک جاتے ہیں.
کورونا نے ایک جانب جہاں ضرورتوں کی ساری دکانیں بند کروا دی ہے وہیں سیاسی لیڈروں کی کریڈٹ لے جانے والی دوکان چوبیس گھنٹے کھلی ہوئی ہے. ایک مریض جس کو اللہ کی قدرت سے ٹھیک ہونا ہی تھا، اس کے ٹھیک ہونے کا کریڈٹ بھی صاحب اپنے نام کر رہے ہیں کہ اسے انجکشن ہم نے منگوا کر دیا تھا. ریمڈیسیور انجکشن کی دوکان بھی ایک الگ مزیدار کریڈٹ فنڈا ہے. دئیے گئے پروٹوکول کے مطابق ایک مریض کو یہ انجکشن اسی وقت لگتا ہے جب اس کی رپورٹ پازیٹیو آنے کو نو دن پورے ہو گئے ہوں اور اس کی حالت میں کوئی سدھار نہ ہو تو اسے ایک ایم ڈی میڈیسن ڈاکٹر کی پرچی پر ہی یہ انجکشن قانونی روپ سے مل جاتا ہے. لیکن اس انجکشن کا ہووا بھی ایسا بنایا گیا ہے کہ مریض کے رشتہ دار اتنے مجبور ہو جائیں کہ مرتا کیا نہ کرتا انہیں اس سیاسی آقا کے پاس ہی آنا پڑے اور وہ اپنے چیلے چپاٹوں کے ذریعے اسے لوٹ لے. ایسی دکانیں آج بھی کھلے عام جاری ہیں اور ہر ضلع کی انتظامیہ یہ جانتے ہوئے بھی طوطا چشمی کرنے پر مجبور ہے کہ کہیں ان کا اپنا تبادلہ نہ ہو جائے.
کورونا کی دوسری لہر (شاید تیسری بھی پیدا ہوگی) میں مریضوں کی سانس اکھاڑنے کا ایک آلہ اوکسی میٹر پہلے بازار میں لایا گیا کہ لوگ ایک چھینک آنے پر ہی آکسی میٹر کا سہارا لے لیں اور بعد میں آکسی میٹر کا میٹر تو دھیمے دھیمے کم ہونا ہی ہے. لوگوں نے آکسی میٹر پر اتنا بھروسہ کر لیا کہ ہر سانس کی گنتی کرنے لگ گئے اور پھر وہی ہوا سانسیں اکھڑنے لگیں اور آکسیجن کی دھوڑ دھوپ شروع ہوگئی.
ہر شہر میں سرکاری یا نیم سرکاری اسپتال یا تو الیکشن کا نتیجہ ہوتے ہیں، یا سیاسی جماعت کی اپوزیشن پارٹی کی ضد یا پھر کسی حادثے کے نتیجے میں بنایا گیا عوام پر احسان. اسی لیے ان اسپتالوں میں ہر وہ معاملات عین اسی وقت تیار ہوتے ہیں جب ان کی اشد ضرورت پڑتی ہے. اگر یہی اسپتال باقاعدہ عوام کی خدمت کیلئے بنائے جائیں تو ان میں پہلے دن سے ہی ہر وہ سہولت مہیا ہو گی جو مریض کیلئے ضروری ہوتی ہے. لیکن ہمارے اسپتالوں میں آکسیجن جیسی ضروری سہولت کو بھی وقت پڑنے پر مہیا کیا جا رہا ہے.
پچھلے سال یہ محسوس کیا گیا تھا کہ کورونا کے مریضوں کی سائنسیں اکھڑتی ہیں تب سرکار کی نیند کھلی اور سارے بڑے سرکاری اسپتالوں میں جیسے بھی میسر آیا آکسیجن کا انتظام کیا گیا. کچھ دنوں پہلے ناسک میں آکسیجن رساؤ سے تیس لوگوں کی جان چلی گئی تھی. دیکھا یہ گیا کہ یہ ٹینک پچھلے سال ہی پونہ کی ایک کمپنی سے کرائے پر لیا گیا تھا اور جس کی دیکھ بھال اور ایمرجنسی کیلئے کوئی ٹیکنیشن بھی نہیں تھا.
جس وقت یہ ٹینکر لگایا جا رہا تھا، ہر کوئی کریڈٹ لینے کی ہوڑ میں تھا لیکن حادثہ ہونے کے بعد ذمہ داری کسی نے بھی نہیں لی. خبر ہے کہ مالیگاؤں شہر میں بھی ایسا ہی ایک ٹینک لگایا جا رہا ہے اور اس کا کریڈٹ ہر وہ سیاسی دھرندر لے رہا ہے جسے صرف خود نمائی میں دلچسپی ہے. لیکن عوام یہ دھیان نہیں دے رہی کہ آیا سیلنڈر سرکار نے خریدا ہے یا اسے بھی لیز پر لیا جا رہا ہے. وہاں کس کی اور کون سی ٹیکنیشن ٹیم کام کرے گی جبکہ جنرل اسپتال میں پہلے سے ہی اسٹاف کی کمی ہے. یہ ٹینک اتنی عجلت میں کیسے آ گیا؟ کیا دواخانہ بننے کے وقت سے ہی یہ پلان میں شامل تھا جسے نظر انداز کر کے اس وقت کے اقتدار نے اپنی جھولی بھر لی تھی؟ اگر ایک پروجیکٹ کا کریڈٹ چار لیڈران لے رہے ہیں تو سچ کیا ہے؟ ایک طرف ذراعت کے وزیر اسے اپنا بتا رہے ہیں تو دوسری جانب ایم پی کی کوششیں بھی بتائی جا رہی ہیں. اس پر طرہ یہ کہ ایسے لیڈران بھی اسے اپنی کوشش گردان رہے ہیں جو ضلعی انتظامیہ کی بیٹھکوں میں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں. اسی ادھیڑ بن میں عوام کو رکھا جائے گا تاکہ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو سب ایک دوسرے پر انگلی اٹھا سکیں. ریاستی سرکار نے تو سول اسپتالوں کیلئے ٹینک خریدنے کا حکم صادر کیا ہے، یہاں تک کہ اس ٹینک سے نجی اسپتالوں کو بھی ضرورت پڑنے پر آکسیجن دینے کا حکم ہے. یہ ساری معلومات کریڈٹ لینے والوں سے لینا چاہیے، ان سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ جس کام کا وہ کریڈٹ لے رہے ہیں وہ خود اس کی کتنی معلومات رکھتے ہیں. سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن ٹینک لگانے کیلئے کی گئی میٹنگوں میں بھلے ہی سارے کریڈٹ لینے والے بیٹھے ہوں لیکن کریڈٹ اس وقت تک کسی کو نہ دینا چاہیے جب تک ریاستی یا مرکزی سرکار کوئی اعلان نہ کر دے.


Please do not enter any spam link in the comment box.