Type Here to Get Search Results !

ہیڈ فون کے بڑھتے استعمال اور نقصانات

 (حساس تحریر) 

ہیڈ فون کے بڑھتے استعمال

 لمحہء فکریہ___

🔖 شگفتہ سبحانی(مالیگاؤں) 

▪️آگرہ روڈ پر کوئی شخص آٹو ریورس کررہا تھا، رش کی وجہ سے ایک فٹ کے فاصلے پر میری بائیک تھی، اور ہارن بجانے کے باوجود اس نے مڑ کر نہیں دیکھا، بیک وقت کئی لوگ چیخے اور آٹو نے پیچھے کی کئی گاڑیوں کو زبردست ٹکر ماردی

تبھی ایک نوجوان  نے اچک کر پہلے تو آٹو ڈرائیور کے کان سے ہیڈ فون کھینچا پھر اسے  دو تھپڑ جڑ دئیے


▪️مجھے یاد ہے گذشتہ ماہ گرنا پل پر ایک بائیک پُل سے نیچے گر گئی تھی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈرائیو کرنے والے بچے کے کان میں ہیڈ فون تھا وہ کار کا ہارن نا سُن سکا تھا نتیجہ یہ کہ اس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہوکر پل سے نیچے گر پڑی  


یو ٹیوب پر اس واقعہ نے مجھے  جھنجھوڑ دیا تھا جب ایک والد ہیڈ فون کی وجہ سے اپنے بچے کی چیخ نہیں سن سکا تھا اور اس کی ہی کار کی زد میں آگے سے اس کا ننھا بچہ آگیا تھا


یہ دلخراش واقعات___

یہ دلخراش حادثات__بیان کرنے کا مقصد کسی کی دلآزاری نہیں

بلکہ ایک دستک ہے کہ سماج میں یہ جو ہیڈ فون کے کثرت کی وبا پھیل رہی ہے اس سے کیسے بچا جاۓ  


 آن کی آن میں ہنستی بستی زندگیوں کا اجڑ جانا آج 40 روپے کے ہیڈ فون کی وجہ سے اتنا زیادہ آسان ہو چلا ہے کہ اب سوچنا ہوگا کہ اس کا سد باب کیا ہو، اس حساسیت کا کسی 

کو احساس کیوں نہیں 


یہ سماج میں ہو کیا رہا ہے؟ 

▪️جسے دیکھو ہیڈ فون میں میوزک سنےبغیر کہیں نکل نہیں پاتا، یا، ہیڈ فون پر باتیں کرتے ہوۓ ہی گزرتا ہے

▪️بچوں کو دیکھا جاۓ تو وہ ہر وقت بلیو ٹوتھ کان میں اڑسے، گیم کھیلنے میں اتنے مصروف نظر آتے ہیں کہ انہیں والدین کی آواز سنائی نہیں دیتی، بچے نافرمان ہوتے جارہے ہیں، اس کے بعد کا درجہ یہ کہ والدین ناراض ہو کر بچوں کے ہیڈ فون چھین کر چپت لگاتے ہیں 

دیگر تمام معاملات میں سب سے خطرناک واقعات، گاڑی ڈرائیو کرتے وقت ہیڈ فون کے ذریعے فون پر بات کرنا یا میوزک سننا ہے،


دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز افراد  ڈرائیونگ کے وقت فون پر بات کرنے سے ہمیشہ  گریز کرتے ہیں. 

 اتنی تیس مار خاں زندگی گزرانے کی آخر ایسی کیا نوبت آن پڑی ہے یہ سمجھنے سے اب میں قاصر ہوں 


آیا یہ کہ کیا ڈرائیونگ کے علاوہ دوسرے وقت میں کہیں ٹھہر کر فون پر بات نہیں کی جاسکتی؟ اگر نہیں تو دوبارہ کبھی بات مت کرئیے لیکن 

آپ کی زندگی اتنی کم قیمت نہیں کہ چالیس روپے کی نذر ہوجاۓ 


سائنسی نقطہ ء نظر سے بھی کان کے پردے ہر وقت تیز میوزک سے متاثر ہوتے ہیں

میوزک یا مسلسل ہیڈ فون پر  بات کرنے  سے دماغ اور آنکھوں  پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، سر درد کی شکایت کے علاوہ ذہنی تھکان بھی اس کا خاصہ ہے 

عوام کو چاہئے کہ سب سے پہلے بلا ضرورت ہیڈ فون کے استعمال کو بند کریں، بہت ضروری ہو تو ہیڈ فون کو سلیقے سے استعمال کریں اور دن بھر میں کتنے وقت اس کا استعمال ہو یہ طے کریں، ہر وقت گیم. کھیلنے اور میوزک سننے کے علاوہ وقت کا اچھے مصرف میں استعمال کریں 


عوام نوٹ کرے کہ اگر کسی ڈرائیور کے کان میں ہیڈ فون ہو، تو انہیں منع کریں کہ آپ ڈرائیونگ کے بعد فون پر بات کرئیے. 

خواتین ایسے آٹو میں بیٹھنے سے انکار کریں جن میں تیز  آڑھے تیڑھے بے ہینگم میوزک اور  گانے زور و شور سے بجتے ہوں 

خواتین کو حق ہے کہ وہ آٹو ڈرائیور سے کہہ کر ڈیک کے میوزک بند کروائیں 


سماج ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں اور سماج میں ہر ایک کی جان کی قدر و قیمت ہے 


التماس ہے کہ" متحرک اور فعال کمیٹیاں ہیڈ فون کے استعمال کی سمت توجہ دیں" 

تاکہ سماج اس عجیب وبا سے پاک ہو جہاں انسانی زندگیاں دو منٹ کی دوری پر داؤ پر لگی ہوں 


دعا ہے کہ اللہ تمام لوگوں کی حفاظت فرماۓ اور صحیح سمت میں عمل کی توفیق عطا فرماۓ. آمین


▪️▪️▪️▪️

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#codes