منفرد شخصیت سازی کیلئے اچھی صحت اور صحبت بہت ضروری ہے: سمیر سونی
صحت ایک نعمت ہے اور منفرد شخصیت ایک قیمتی سرمایا۔منفرد شخصیت سازی کیلئے اچھی صحت اور صحبت بہت ضروری ہے۔ نیز اچھی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے روزگار اور بہتر معاشی حالت بھی اہم ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ اور تیز رفتار دور میں سیکوریٹی فیلڈ سے لیکر بطور باڈی گارڈ اور باؤنسر کام کرنے کیلئے اچھی صحت، ہمت، ایمانداری، بھروسہ اور مہذب شخص کاہی انتخاب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے ماڈلنگ و گلیمرکی دنیا میں بھی منفرد شخصیت رکھنے والے افراد کا انتخاب ہی کیا جاتا ہے۔
ریاست مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوان عادل سمیر نخشب مسعود (عرف سمیر سونی) نے گذشتہ روز 20 جنوری 2021 کو "فورفوکس پروڈکشن" کے زیر اہتما م پونے شہر منعقد ہ انٹرنیشنل ماڈلنگ مقابلہ "مسٹر انڈیا گلیمر ٹیلنٹ" میں شرکت کی۔ اس مقابلہ میں بیرون ممالک اور ریاستوں کے 45 امیدوار اور مہاراشٹر سے 20 سے زائد نوجوانوں میں سے پہلے پانچ ماڈلس کو قومی سطح پر" مسٹر انڈیا ایوارڈ" کے خطاب کیلئے منتخب کیا گیا۔ جس میں عادل سمیر نے ٹاپ فائیو میں اپنا مقام حاصل کیا اور انھیں مسٹر انڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا۔
عادل سمیر نے ابتدائی تعلیم اردو میڈیم مالیگاؤں ہائی اسکول سے دسویں تک حاصل کی۔ بعد ازاں بارہویں جماعت شعبہ کامرس میں اے ٹی ٹی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج سے مکمل کی۔ بچپن سے ہی ماڈلنگ شوق اور فلمی شخصیات سے متاثر ہو کر ان کے جیسے بننا چاہتے تھے اور اسی لئے صحت کا اچھی طرح سے خیال نے جم خانہ کی طرف راغب کیا۔
موصوف نے بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر نخشب مسعود پروفیسر اور والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ بارہویں تک کی تعلیم مکمل کر لینے کے بعد آگے کی تعلیم کیلئے خاتون ڈی ایڈ کالج کا انتخاب کیا۔ بعد ازاں بی ایڈ کی تعلیم منصور حسن ایوبی سٹیزن کیمپس(مالیگاؤں) سے مکمل کی۔ بہترین شخصیت سازی کیلئے پونے اعظم کالج سے شخصیت سازی کا کورس کیا اور بعد ازاں تھیئٹر لائن (ڈرامہ) کا انتخاب کیا اور سلور انڈیا اکیڈمی کے ذریعے خالد قریش کی سرپرستی میں تھیئٹر لائن (ڈرامہ) کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
موصوف نے بتایا کہ خالد قریش اور امین شیخ کی رہنمائی میں اردو اکیڈمی کیلئے اسٹیٹ لیول نیشنل لیول پر کئی کامیاب ڈرامے اور نکڑ شو کیے اور موصوف انٹرنیشنل لیول کے ڈرامے کرنے کے خواہش مند ہیں۔ عادل سمیر نوجوانوں کیلئے ایک رول ماڈل کے طور پر اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں۔موصوف مالیگاؤں ٹاپ ماڈل اکیڈمی کے روح رواںہیں اور ان کے زیر رہنمائی یہ اکیڈمی نوجوانوں کی مثبت صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے کارآمد ثابت ہورہی ہے۔ عادل سمیر نے بتایا کہ اس اکیڈمی میں آنے والے نوجوانوں کو تعلیم کیلئے رہنمائی کی جاتی ہے اور نیشنل، انٹرنیشنل کمپنیوں میں کس طرح سے نوکری کیلئے انٹرویو دیا جاتا ہے۔ انٹرویو فیسنگ شخصیت سازی، سماج میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں اس کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ مالیگاؤں ٹاپ ماڈل اکیڈمی کے نوجوانوں اچھی قد و قامت ، بہترین شخصیت سازی کی وجہ سے نیشنل برانڈ کمپنیوں میں بطور ماڈل کام کررہے ہیں کیونکہ موصوف دادا صاحب پھالکے گولڈ کیمرہ ایوارڈ، انٹرنیشنل فیشن فیسٹیول (ناسک) وغیرہ میں بطور جج بھی رہ چکے ہیں۔عادل سمیر نے مزید کہا کہ مسٹر انڈیا ایوارڈ کے ساتھ ساتھ تین برانڈ شو میں بطور ماڈل کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ موصوف نے اس مقابلہ کے قواعد و ضوابط کے بارے میں بتایا کہ یہ مقابلہ چار مراحل ٹیلینٹ راؤنڈ، سوال جواب، شخصیت شازی، حاضر دماغی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس مقابلہ میں امیدوار کا انتخاب ہائیٹ، باڈی، حاضر دماغی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
موصوف نے مزید کہا کہ مستقبل میں وہ شہر کے صحت مند اور بے روزگار نوجوانوں کیلئے نیشنل انٹرنیشنل کمپنیوں کی مدد سے برانڈ ایجنسی قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اس فیلڈ میں روزگار کا موقع ملے۔ مالیگاؤں شہر میں زیادہ تر نوجوان بری عادت کی لت میں مبتلا ہیں۔ اس طرح کی بری لت سے بہتر ہے کہ اچھی صحت کا خیال رکھیں۔ پہلے کسی بھی طرح کے روزگار سے جڑیں یا اپنی شناخت خود بنائیں جس سے ان کے والدین اور شہر کا نام روشن ہو۔


Please do not enter any spam link in the comment box.