شاعر عمران راشد
خسارے کا یہ سودا کیوں منافع کی تجارت کر، محبت کر
جفاؤں سے عداوت اور نفرت سے بغاوت کر، محبّت کر
دکھ درد کوئی حال میں کم مل نہیں رہا
لیکن مرے مزاج کا غم مل نہیں رہا
میں ہنس پڑا تو کئی لوگ ہوگئے حیران
سمجھ رہے تھے کہ ہنستے نہیں ستائے ہوئے
اس سے بچھڑے تو یہ دنیا بھی دو رنگی ہوگئی
اتنا روئے ہم کہ ساری عمر گیلی ہوگئی
قطرہ سمندروں کی نگاہوں میں آگیا
سچ کہے دیا تو میں بھی سوالوں میں آگیا
اسے اپنے غم کا کوئی غم نہیں ہے
وہ میری خوشی سے پریشاں بہت ہے
پھر سے ہمارے ساتھ تماشہ کیا گیا
اپنا بناکے ہم کو پرایا کیا گیا
شب بھر تمہارے وعدوں کی بیٹھک میں بیٹھ کر
شب بھر تمہاری یاد سے جھگڑا کیا گیا
تری محفل میں ہم اس واسطے ٹھہرے نہیں عمران
جفا کاروں کی مجلس میں وفا کی بات جاری تھی
سورج سے میں نے جنگ کا اعلان کردیا
جگنو تمام میری حمایت میں آگئے
قطروں نے اتحاد کا پرچم اٹھالیا
تالاب جھیل دریا مصیبت میں آگئے

Please do not enter any spam link in the comment box.